عمران خان کوہسپتال لایا گیا پھر جیل لے گئے، بیماری نہیں بتائی جا رہی: بیرسٹر گوہر
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو مبینہ طور پرہسپتال منتقل کیا گیا اور پھر واپس جیل لے جایا گیا، تاہم یہ نہیں بتایا جا رہا کہ انہیں کس بیماری کے باعث ہسپتال لایا گیا، جس سے پارٹی اور اہلِ خانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ان کی آخری ملاقات 20 دسمبر کو ہوئی تھی، اس کے بعد آج تک ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے عدالت میں پٹیشن بھی دائر کی گئی، مگر اس کے باوجود ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایک خبر سامنے آئی ہے کہ عمران خان کو اسپتال لے جایا گیا اور پھر جیل منتقل کر دیا گیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا جا رہا کہ کس بیماری یا طبی مسئلے کے باعث یہ اقدام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان سے فوری ملاقات کروائی جائے۔
اس سے قبل جاری بیان میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ ہر منگل کو اڈیالہ جیل جاتے ہیں اور اس وقت تک وہاں موجود رہتے ہیں جب تک پولیس آگے جانے سے نہ روک دے۔ ان کے مطابق ملاقات کا وقت ختم ہونے پر وہ واپس آ جاتے ہیں اور گزشتہ روز بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، ویلاگرز، یوٹیوبرز اور مین اسٹریم میڈیا سے اپیل کی کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق ملاقاتوں یا صحت کے حوالے سے کوئی بھی خبر سیکرٹری اطلاعات سے تصدیق کے بعد ہی نشر یا شائع کی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہ حکومت اور نہ ہی جیل حکام کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کی کوئی پیشکش کی گئی، اس لیے کسی کے ساتھ جانے یا نہ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی سے متعلق خبریں، بالخصوص ملاقاتوں سے جڑی اطلاعات انتہائی سنجیدہ نوعیت کی ہوتی ہیں، اور نام نہاد ذرائع کی بنیاد پر ایسی خبروں کو زیرِ بحث لانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔
