جی ایس پی پلس اور قاسم خان
پاکستان کی داخلی سیاست جب بین الاقوامی فورمز تک پہنچتی ہے تو اس کے اثرات محض سیاسی نہیں رہتے بلکہ معیشت، سفارتکاری اور عالمی ساکھ پر بھی گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان کی جانب سے یورپی یونین سے پاکستان کا جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس واپس لینے کے مطالبے نے اسی نوعیت کی ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل پیدا کر رہا ہے بلکہ ماہرین معیشت اور سفارتکاروں کے لیے بھی باعث تشویش بن چکا ہے۔
جی ایس پی پلس دراصل یورپی یونین کی ایک خصوصی تجارتی سہولت ہے جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی کے ساتھ رسائی حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان اس سہولت سے 2014 سے فائدہ اٹھا رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں ملکی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان کی یورپی یونین کو ہونے والی برآمدات کا بڑا حصہ اسی اسکیم کے تحت ممکن ہوتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ ایسے میں اگر اس اسٹیٹس کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔
اگر یورپی یونین واقعی پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کر دیتی ہے تو سب سے پہلا اور بڑا جھٹکا برآمدات کو لگے گا۔ پاکستانی مصنوعات، جو اب تک کم یا بغیر ڈیوٹی کے یورپ میں فروخت ہوتی ہیں، اچانک مہنگی ہو جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں
یورپی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کم ہو جائے گی۔آرڈرز میں نمایاں کمی آ سکتی ہے،ٹیکسٹائل، گارمنٹس، لیدر اور سرجیکل آلات جیسے شعبے شدید متاثر ہوں گے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری، جو پاکستان کی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ رکھتی ہے، اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہے۔ فیکٹریوں کی بندش، پیداوار میں کمی اور سرمایہ کاری میں جمود جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
مزید برآں، لاکھوں افراد جو براہ راست یا بالواسطہ ان صنعتوں سے وابستہ ہیں، بے روزگاری کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک میں غربت کی شرح میں اضافہ اور سماجی بے چینی بھی بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان پہلے ہی زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے مشکلات کا شکار رہا ہے۔ اگر برآمدات کم ہوتی ہیں تو ڈالر کی آمد میں کمی آئے گی، جس سےروپے پر مزید دباؤ بڑھے گا،مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے،درآمدات مہنگی ہو جائیں گی۔یہ صورتحال مجموعی طور پر معاشی عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
قاسم خان کا یہ مطالبہ داخلی سیاست کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے کئی سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں۔
داخلی سطح پرحکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی ، ریاستی اداروں پر دباؤ اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔جبکہ
سیاسی بیانیے میں “ملکی مفادات بمقابلہ سیاسی مفادات” کی بحث شدت سے شروع ہو سکتی ہے۔
خارجی سطح پرپاکستان کی سفارتی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔یورپی یونین اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں،یہ تاثر ابھر سکتا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات غیر مستحکم ہیں
بین الاقوامی سطح پر ایسے اقدامات کو اکثر ریاستی پالیسی کی کمزوری یا داخلی تقسیم کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا قاسم خان کا مطالبہ عملی طور پر کتنا اثرانداز ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین جی ایس پی پلس اسٹیٹس کا جائزہ مختلف معیارات، خصوصاً انسانی حقوق، لیبر قوانین اور گورننس کی بنیاد پر لیتی ہے۔ کسی ایک فرد یا سیاسی آواز کی بنیاد پر فوری فیصلہ ہونا ممکن نہیں، تاہم ایسے بیانات یورپی پالیسی سازوں کی توجہ ضرور حاصل کرتے ہیں۔پاکستان کے خلاف پہلے سے موجود خدشات کو تقویت مل سکتی ہے
اس حساس صورتحال میں حکومت پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذباتی یا محض سیاسی ردعمل کے بجائے ایک جامع اور حکمت عملی پر مبنی پالیسی اختیار کرے۔حکومت کو فوری طور پر یورپی یونین کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھانے چاہئیں، اور واضح کرنا چاہیے کہ پاکستان جی ایس پی پلس کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
انسانی حقوق، لیبر قوانین اور گورننس کے شعبوں میں جاری اصلاحات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی تنقید کا ٹھوس جواب دیا جا سکے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھے اور اپوزیشن سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔
یورپی یونین پر انحصار کم کرنے کے لیے دیگر منڈیوں، جیسے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا میں برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی جائے۔حکومت عوام اور کاروباری برادری کو اس معاملے کی حساسیت سے آگاہ کرے اور اعتماد بحال رکھنے کے لیے واضح پیغام دے۔
قاسم خان کا مطالبہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ بن چکا ہے جس کے ممکنہ اثرات پاکستان کی معیشت اور سفارتکاری دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔ اگرچہ فوری طور پر جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خاتمے کا امکان کم ہے، لیکن اس نوعیت کی آوازیں پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ضرور ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ پاکستان داخلی سیاسی اختلافات کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دے۔ حکومت، اپوزیشن اور دیگر تمام فریقین کو مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو نہ صرف ملک کی معاشی سلامتی کو یقینی بنائے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی مضبوط کرے۔
آخرکار، عالمی دنیا میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو داخلی استحکام اور متحدہ قومی موقف کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ سب سے زیادہ محفوظ اور مؤثر ہے۔
