پاکستان نے ورچوئل ایسٹ لائسنس کے لیے درخواستیں طلب کرلیں
پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) نے باضابطہ طور پر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایکسچینجز اور ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز (وی اے ایس پیز) کو ملک کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں شمولیت کے لیے ایکسپریشن آف انٹرسٹ (ای او آئی) جمع کرانے کی دعوت دے دی ہے۔
یہ اقدام جولائی 2025 میں نافذ ہونے والے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت اتھارٹی کو وی اے ایس پیز کو لائسنس دینے، ان کی نگرانی اور ریگولیشن کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس اعلان کو پاکستان کی ڈیجیٹل فنانس انڈسٹری میں تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق پاکستان میں اس وقت ورچوئل ایسٹ صارفین کی تعداد 4 کروڑ سے زیادہ ہے جبکہ سالانہ تجارتی حجم 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔ ان اعداد و شمار کے باعث پاکستان دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں شمار ہوتا ہے۔
پی وی اے آر اے نے واضح کیا ہے کہ لائسنس یافتہ کمپنیوں پر اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ (سی ایف ٹی) اور سائبر سکیورٹی کے سخت تقاضے لاگو ہوں گے۔
ساتھ ہی اتھارٹی شریعت کے مطابق جدت کو فروغ دینے کے لیے ریگولیٹری سینڈ باکسز بھی متعارف کرائے گی، یہ ماڈل ایف اے ٹی ایف، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے عالمی اداروں کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوگا۔
اتھارٹی کے چیئرمین اور وزیرِ مملکت برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب نے کہا کہ ’یہ ای او آئی دنیا کے نمایاں ورچوئل ایسٹ اداروں کے لیے دعوت ہے کہ وہ پاکستان کے شفاف اور جامع ڈیجیٹل مالی مستقبل کی تعمیر میں شراکت دار بنیں۔ ‘
اتھارٹی کے مطابق وہ وی اے ایس پیز اور ایکسچینجز اہل ہوں گے جو کم از کم ایک بین الاقوامی دائرۂ اختیار میں لائسنس یافتہ ہیں، جیسے امریکا کے ایس ای سی، برطانیہ کے ایف سی اے، یورپی یونین طی اے ایس پی، متحدہ عرب امارات وی اے آر پی یا سنگاپور ایم اے ایس۔دلچسپی رکھنے والی کمپنیاں اپنی پروفائل، لائسنس کی تفصیلات، آپریشنل خاکہ، تاریخ اور پاکستان کے لیے مجوزہ ماڈلز ای میل کے ذریعے جمع کرا سکتی ہیں۔
اتھارٹی کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ایوکیوئی ٹرسٹ بلڈنگ (میریٹ ہوٹل کے قریب) میں قائم ہے جہاں سے اس پروگرام کی نگرانی کی جارہی ہے۔
