امریکا نے 32 کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا، چین اور بھارت کی فرمیں بھی متاثر
امریکا نے 32 کمپنیوں اور اداروں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے، جن میں چین، بھارت، ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
یہ اقدام بالخصوص ان چینی کمپنیوں کو نشانہ بناتا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی چِپ سازی کے آلات چین کے سرکردہ سیمی کنڈیکٹر ادارے ایس ایم آئی سی (SMIC) کے لیے حاصل کیے۔
امریکی حکومت کے نوٹس کے مطابق GMC Semiconductor Technology (Wuxi) Co اور Jicun Semiconductor Technology کو اس بنیاد پر بلیک لسٹ کیا گیا کہ انہوں نے یہ آلات SMIC Northern Integrated Circuit Manufacturing (Beijing) Corp اور Semiconductor Manufacturing International (Beijing) Corporation کے لیے حاصل کیے، جو پہلے ہی امریکی بلیک لسٹ میں شامل تھے۔
ان اداروں کو امریکی آلات کی ترسیل کے لیے لائسنس درکار ہے جو عموماً مسترد کر دیے جاتے ہیں۔اسی طرح Shanghai Fudan Microelectronics Technology Co اور اس سے وابستہ کئی کمپنیوں کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ ادارے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ چِپس کی تیاری میں ملوث ہیں اور چین کی فوجی جدیدیت، ایڈوانسڈ کمپیوٹنگ، انٹیگریٹڈ مینوفیکچرنگ و ڈسٹری بیوشن سیکٹرز کے ساتھ ساتھ براہِ راست چینی فوج، حکومت اور سکیورٹی اداروں کو سپلائی کرتے ہیں۔
امریکی محکمۂ تجارت کے مطابق Shanghai Fudan Microelectronics نے روسی فوجی صارفین کو بھی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے، جس پر کمپنی پر مزید سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بھارت، ایران، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی کچھ کمپنیوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، تاہم فوری طور پر ان اداروں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
