ایران کے معاملے پر پاکستان کی متوازن پالیسی، احتجاج پر تشدد برداشت نہیں ہوگا: حکومتی مؤقف
اسلام آباد: حکومتی ذرائع کے مطابق ایران کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے پاکستان متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مؤقف میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اپنا ردِعمل واضح کیا جسے ایران نے سراہا، جبکہ چین اور روس نے بھی اس کی تائید کی۔
پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر عرب ممالک کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات کھلے الفاظ میں بیان کیے ہیں، تاہم اسلام آباد ایک مستحکم اور پُرامن ایران کا خواہاں ہے۔ حکام نے اس تاثر کو بے بنیاد قرار دیا کہ پاکستان ممکنہ طور پر اگلا ہدف ہو سکتا ہے، اور واضح کیا کہ پاکستان اور ایران کو عسکری، خارجہ پالیسی اور داخلی حالات کے اعتبار سے یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مضبوط خارجہ پالیسی پر کاربند ہے اور متعدد عالمی شراکت داروں کے ساتھ باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جس کا مظاہرہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ اور حالیہ معرکۂ حق میں کیا جا چکا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج، عوام کی حمایت سے، دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حکومت نے انتشار پھیلانے والے عناصر کی جانب سے غلط فہمیاں پیدا کرنے اور پروپیگنڈا کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔
بیان میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دہائیوں پر محیط برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) سے متعلق کہا گیا کہ اس کی تفصیلات تاحال طے نہیں ہوئیں، اور پاکستان کی ممکنہ شرکت کا فیصلہ حکومت مکمل جانچ پڑتال کے بعد کرے گی۔
ملک گیر احتجاج
پاکستان نے ایران میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
واضح کیا گیا ہے کہ ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا اور چند شرپسند عناصر کو پُرامن مظاہرین کی ساکھ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
