امریکی پابندیوں کے بعد بھارت کو بڑا سفارتی و معاشی دھچکا، چابہار بندرگاہ سے عملی علیحدگی

0

نئی دہلی: امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت ایران کی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل چابہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پابندیاں لاگو ہونے سے قبل بھارت نے ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی، جس کے بعد اب ایران اس سرمایہ کاری کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ چابہار بندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کی ذمہ دار پبلک سیکٹر کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ میں شامل حکومتی نمائندے اجتماعی طور پر مستعفی ہو چکے ہیں، جب کہ IPGL کی آفیشل ویب سائٹ بھی غیر فعال کر دی گئی ہے۔

چابہار بندرگاہ سے خاموش علیحدگی پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا نے کہا کہ سوال صرف چابہار بندرگاہ یا روسی تیل کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ مودی حکومت امریکا کو بھارت کا بازو مروڑنے کی اجازت کیوں دے رہی ہے؟ ان کے مطابق امریکی دباؤ پر چابہار سے غیر رسمی پسپائی خارجہ پالیسی میں نئی کمزوری کی علامت ہے۔

معاہدے کا پس منظر :

بھارت اور ایران کے درمیان چابہار بندرگاہ کے انتظام و آپریشن کا معاہدہ مئی 2024 میں طے پایا تھا، جس کے تحت بھارت نے 10 سال کے لیے بندرگاہ کا انتظام سنبھالا۔ یہ معاہدہ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے ذریعے کیا گیا تھا، جس میں ابتدائی طور پر 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری شامل تھی۔

بھارت کو متوقع فوائد:

 افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہِ راست تجارتی رسائی

 پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے اسٹریٹجک تجارتی راستہ

 چین کے گوادر بندرگاہ منصوبے کے مقابل علاقائی اثر و رسوخ

 وسطی ایشیائی منڈیوں میں بھارتی برآمدات کا فروغ

اب ممکنہ نقصانات:

 افغانستان اور وسطی ایشیا تک متبادل راستے محدود ہو جانا

 ایران میں بھارتی اسٹریٹجک موجودگی کا خاتمہ

 چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ

 بھارتی خارجہ پالیسی پر امریکی دباؤ کا تاثر مضبوط ہونا

ماہرین کا تجزیہ:

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق چابہار بندرگاہ سے بھارت کی علیحدگی محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پسپائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چابہار منصوبہ بھارت کے لیے وسطی ایشیا میں جغرافیائی سیاست کا ایک اہم ستون تھا، جس کے کمزور پڑنے سے بھارت کا علاقائی کردار متاثر ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی پابندیوں کے سامنے پسپائی بھارت کی "اسٹریٹجک خودمختاری” کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے، جبکہ اس فیصلے سے ایران چین اور روس جیسے شراکت داروں کی جانب مزید جھک سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں اس صورتحال سے بھارت کو معاشی سے زیادہ سفارتی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.