صدر آصف علی زرداری کی تاجک ہم منصب امام علی رحمن سے ملاقات ، دوطرفہ تعاون، توانائی اور علاقائی روابط پر تبادلہ خیال
دوحہ: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمن سے دوسری ورلڈ سمٹ برائے سماجی ترقی کے موقع پر دوحہ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون، توانائی کے منصوبوں اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور لسانی رشتوں پر مبنی ہیں، اور پاکستان ان تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ 2024 میں دستخط شدہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدہ دونوں ممالک کے تعلقات میں گہرائی اور اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے CASA-1000 منصوبے کی بحالی کو پاکستان، تاجکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے مشترکہ خوشحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
آصف علی زرداری نے تاجکستان کو پاکستان کے ذریعے تجارت اور روابط کے نئے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی، ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی پر غور کی تجویز بھی پیش کی۔
صدرِ مملکت نے اگست 2025 میں ہونے والی مشترکہ فوجی مشق “دوستی-II” کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشق دفاعی تعاون اور عسکری استعداد کار میں اضافے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے دفاعی شعبے میں تربیت، تکنیکی معاونت اور تجربات کے تبادلے کی پیشکش بھی کی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی امورپر بھی تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔تاجک صدر امام علی رحمن نے صدر آصف علی زرداری کو تاجکستان کے سرکاری دورےکی دعوت دی، جو صدرِ مملکت نے بخوشی قبول کرلی۔
