ڈکی برڈ کی 92 برس میں وفات، لیجنڈری ایمپائر کے کیریئر پر ایک نظر

0

کرکٹ کی دنیا کے عظیم اور لیجنڈری ایمپائر ڈکی برڈ 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ڈکی برڈ کا شمار ان ایمپائروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے منفرد انداز اور غیر متنازع فیصلوں کے ذریعے عالمی کرکٹ کو ایک نئی پہچان دی۔

ڈکی برڈ کا اصل نام ہیرالڈ ڈینس برڈ تھا، وہ 19 اپریل 1933 کو انگلینڈ کے علاقے بارنسلے (یورکشائر) میں پیدا ہوئے۔ نوجوانی میں وہ کرکٹر کے طور پر کھیل کے میدان میں اترے، لیکن ایک حادثے نے ان کا کھلاڑی بننے کا خواب ادھورا چھوڑ دیا۔ تاہم قسمت نے ان کے لیے کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا باب لکھا، اور یوں وہ ایمپائرنگ کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔

ڈکی برڈ 92 نے 1973 میں انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ میچ میں ٹیسٹ ایمپائرنگ کا آغاز کیا اور 23 سالہ کیریئر کے دوران دنیا کے بڑے میدانوں میں ایمپائرنگ کی۔ وہ 66 ٹیسٹ میچز، 69 ون ڈے انٹرنیشنل اور 3 ورلڈ کپ فائنلز میں امپائرنگ کرنے والے واحد شخصیت ہیں۔

ڈکی برڈ کی ایمپائرنگ کی سب سے بڑی خوبی ان کا دیانت دار، شفاف اور غیر جانبدار انداز تھا جس نے کھلاڑیوں اور شائقین کا اعتماد ہمیشہ ان پر قائم رکھا۔

ڈکی برڈ کے مشہور ترین انداز میں ان کی ’اونچی اٹھی ہوئی انگلی‘ شامل تھی، جو ان کے فیصلے کو ایک علامت کی طرح پہچان دیتی تھی۔ کھلاڑی اور شائقین دونوں ہی ان کے انداز کو کرکٹ کا حصہ سمجھنے لگے تھے۔

ایمپائرنگ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ڈکی برڈ کرکٹ کے حلقوں میں متحرک رہے۔ انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح حیات “My Autobiography” لکھی جو برطانیہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کھیلوں کی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔کرکٹ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (MBE) سے بھی نوازا گیا۔

ان کی زندگی اور خدمات کے باعث انہیں صرف ایک ایمپائر ہی نہیں بلکہ کرکٹ کی تاریخ کا اہم کردار مانا جاتا ہے۔ ڈکی برڈ کے انتقال پر دنیائے کرکٹ سوگوار ہے، اور ان کی یادیں شائقین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.