ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہوگا، تیاریوں کی ہدایت
اسلام آباد :ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جو آئندہ ہفتے کے اختتام پر منعقد ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو ابتدائی تیاریوں کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ مجوزہ مذاکرات کے لیے سکیورٹی اور انتظامی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی وفد میں نائب امریکی صدر جے ڈٰی وینس ، جیرڈ کشنر اور سٹیو ویٹکوف کی شرکت متوقع ہے۔دوسری جانب ایران کی نمائندگی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق تاحال مذاکرات کے لیے کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مرحلے میں دونوں فریقین کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے تھے جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔
امریکی نائب صدر نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ مذاکرات میں کچھ مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور اب ایران کے پاس امریکی تجاویز پر غور کا مرحلہ ہے۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منصفانہ معاہدے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
روس کے وزیر خارجہ نے بھی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں نئی جنگ کو روکنا ضروری ہے اور اس بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔
سفارتی مبصرین کے مطابق اگر اسلام آباد میں یہ مذاکرات منعقد ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم حتمی صورتحال فریقین کے مؤقف پر منحصر ہوگی۔
