کھلاڑیوں کے پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانے کا تنازع، بھارتی بورڈ عہدیدار نئی کہانی سامنے لے آئے
اتوار 14 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ کا اہم میچ کھیلا گیا جس میں بھارتی ٹیم نے سپورٹس مین سپرٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کرڈالا۔
پاکستان کے خلاف اس میچ میں بھارت کو 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی لیکن بھارتی کپتان سوریا کمار نے ٹاس کے موقع پر پاکستان کے کپتان سے ہاتھ نہ ملایا جب کہ بھارتی ٹیم نے میچ ختم ہونے کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے روایت کے مطابق ہاتھ نہ ملاکر سپورٹس مین سپرٹ کی دھجیاں اڑا دیں۔
اس سے قبل چند روز پہلے دبئی سٹیڈیم میں بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ہاتھ ملایا تھا جس پر بھارت میں انہیں کڑی تنقید اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
اب اس تنازع پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سینئر عہدیدار نے بیان جاری کیا اور انہوں نے کہا کہ اس قسم کا کوئی قانون نہیں جو کھلاڑیوں کو زبردستی مخالف ٹیم سے ہاتھ ملانے پر مجبور کرے۔انہوں نے بھارتی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ‘دیکھیے اگر آپ کھیل کے قوانین کے حساب سے دیکھیں تو اس میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ اپوزیشن سے ہاتھ ملانا ضروری ہے’۔
بی سی سی آئی آفیشل کا کہنا تھا کہ یہ ایک جذبہ خیر سگالی اور ایک طرح کا کنونشن ہے، قانون نہیں، جس پر دنیا بھر میں کھیلوں کے میدان میں عمل کیا جاتا ہے’۔انہوں نے مزید کہا کہ’اگر اس قسم کا کوئی قانون ہے ہی نہیں تو بھارت کرکٹ ٹیم کسی ایسی اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کی پابند نہیں ہے جس کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہونے کی تاریخ رہی ہو’۔
