اسرائیلی حملے کے خدشے پر پاکستانی فضائیہ کا بڑا اقدام، ایرانی وفد کو سکیورٹی حصار میں واپس پہنچایا
اسلام آباد:دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ غیر حتمی امن مذاکرات کے بعد پاکستانی فضائیہ نے ایک اہم اور غیر معمولی آپریشن کے تحت ایرانی وفد کو سکیورٹی حصار میں محفوظ طریقے سے ایران واپس پہنچایا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام اس خدشے کے پیش نظر کیا گیا کہ اسرائیل ایرانی وفد کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ کے تقریباً دو درجن جنگی طیارے اور ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) طیارے شامل تھے، جنہوں نے پورے سفر کے دوران وفد کو مکمل سکیورٹی فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایرانی وفد کو خدشہ تھا کہ حالات غیر محفوظ ہو سکتے ہیں، جس کے باعث خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا اور حساس آپریشن تھا، جس میں ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کی گئی۔اس مشن میں چینی ساختہ J-10C لڑاکا طیارے بھی شامل تھے، جو جدید دفاعی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔
ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق ایرانی وفد نے باضابطہ طور پر سکیورٹی کی درخواست نہیں کی تھی، تاہم ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے خود حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی وفد کے طیارے نے تہران میں لینڈ نہیں کیا، اور یہ واضح نہیں کہ انہیں کس مقام پر اتارا گیا۔
ذرائع کے مطابق مستقبل میں بھی اگر ایرانی وفد کی جانب سے درخواست کی گئی تو اسی نوعیت کی سکیورٹی فراہم کی جا سکتی ہے، بصورت دیگر پاکستانی فضائیہ اپنی فضائی حدود میں ان کا استقبال کرے گی۔
