گورنرتاشقندملاقات،پنجاب اور تاشقند برادر صوبے قرار،تعاون بڑھانے کا عزم

صدر میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ازبکستان کے صوبہ تاشقند کے گورنر نے ملاقات کی

0

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف  اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ازبکستان کے صوبہ تاشقند کے گورنر نے سات رکنی وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں دونوں خطوں کے درمیان معاشی اور سیاحتی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔

ملاقات کے دوران پنجاب اور تاشقند کو برادر صوبے قرار دینے پر اتفاق کیا گیا اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ دونوں اطراف نے ٹورازم، زراعت، لائیو اسٹاک، میٹ پراسیسنگ، بیوریجز، سٹرس فروٹ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ ازبکستان کی جانب سے لاہور میں ’’بابر پارک‘‘ کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

گورنر تاشقند نے لاہور میں مغل دور کی تاریخی عمارتوں کی بحالی اور سیاحتی مقامات کی ترقی کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کی کاوشوں کو سراہا، جبکہ مریم نواز  نے ازبکستان کے دورے کی دعوت شکریے کے ساتھ قبول کر لی۔

اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ پاکستانی ازبکستان کے علمی اور ثقافتی ورثے پر فخر کرتے ہیں اور سمرقند ماضی کی طرح آج بھی علم و ہنر کا مرکز ہے۔ انہوں نے ازبک کھانوں خصوصاً پلاؤ کو پاکستانیوں میں مقبول قرار دیا اور دونوں ممالک کے تاریخی و ثقافتی تعلقات کا ذکر کیا۔

گورنر تاشقند Zoir Mirzaev نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سیاحت، فارماسیوٹیکل، زراعت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ان کے مطابق ازبکستان میں اس وقت 74 ممالک کے اشتراک سے ڈھائی ہزار سے زائد کمپنیاں کام کر رہی ہیں جبکہ پاکستانی سرمایہ کاروں کے ساتھ مشترکہ طور پر 22 کمپنیاں مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔

مریم نواز شریف  نے کہا کہ ازبکستان برادر ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سماجی اور معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں زراعت، صنعت اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور صوبہ ملک کی 70 فیصد زرعی پیداوار فراہم کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں لائیو اسٹاک اور میٹ پراسیسنگ کے شعبوں میں ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور عالمی معیار کے مطابق تین لاکھ مویشی برآمدات کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان مشترکہ تعاون سے عالمی سطح پر نمایاں معاشی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.