اسرائیلی وزارتِ انصاف کا وزیر اعظم نیتن یاہو کی کرپشن کیسز میں صدارتی معافی کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ

0

تل ابیب: اسرائیل کی وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی کرپشن کیسز میں صدارتی معافی کے لیے سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 عبرانی میڈیا کے مطابق پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی قانونی رائے مکمل کرنے کے بعد اسے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو بھیج دیا ہے۔وزارتِ انصاف کی ہدایت پر یہ رائے وزیرِ ثقافت و ورثہ کے ذریعے صدارتی دفتر تک پہنچائی جائے گی تاکہ باضابطہ کارروائی مکمل ہو سکے۔

 وزارتِ انصاف کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی معافی کی درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی، کیونکہ انہوں نے نہ تو اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے اور نہ کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار کیا ہے، جو قبل از وقت معافی کے لیے ضروری شرط سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیل کی ہائی کورٹ پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ سزا سے قبل معافی دی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے درخواست گزار کا جرم تسلیم کرنا لازم ہے۔ خیال رہے کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے اور انہیں کسی جرم میں ابھی سزا نہیں سنائی گئی۔

اسرائیلی وزیراعظم نے 2025 میں اپنے خلاف جاری کرپشن مقدمے کے دوران صدارتی معافی کی درخواست دائر کی تھی، جس پر ملک میں متضاد آراء سامنے آئیں۔ وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ کی رائے کے بعد حتمی فیصلہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کریں گے، جنہوں نے پہلے واضح کیا تھا کہ وہ کسی بیرونی دباؤ کے بغیر اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

مختصر پس منظر:

2019 میں اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے نیتن یاہو پر رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات عائد کیے۔

اگلے سال تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔

5 برسوں تک مختلف سماعتوں میں ٹھوس شواہد پیش کیے گئے، مگر نیتن یاہو تمام الزامات سے انکاری رہے۔

2025 میں نیتن یاہو نے صدارتی معافی کے لیے درخواست دائر کی، جو اب وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ کی رائے کے بعد صدر کے فیصلے کے منتظر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.