ایران میں کشیدگی : پاکستانی طلبہ کی بحفاظت وطن واپسی کا سلسلہ جاری
حکومت پاکستان اور پاک فوج کے مشترکہ اقدامات، سینکڑوں طلبہ کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا
اسلام آباد/کوئٹہ: ایران کی حالیہ صورتحال کے بعد حکومتِ پاکستان اور پاک فوج نے فوری اقدامات کرتے ہوئے پاکستانی طلبہ اور شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ یکم اور 2 مارچ کے دوران مجموعی طور پر 183 طلبہ تفتان سرحدی راستے کے ذریعے پاکستان پہنچ گئے۔
حکام کے مطابق 2 مارچ کو 62 طلبہ کو تفتان سے کوئٹہ روانہ کیا گیا، جن میں 42 مرد اور 20 خواتین شامل تھیں۔ اسی روز مزید 121 طلبہ پاکستان پہنچے، جن میں 41 مرد اور 80 خواتین شامل ہیں۔ تمام طلبہ کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کے بعد ان کے آبائی علاقوں کی جانب روانہ کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
وطن واپس آنے والے 183 طلبہ میں سے 132 کا تعلق پنجاب سے ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے 22، سندھ کے 15، گلگت بلتستان کے 10، آزاد کشمیر کے 3 اور بلوچستان کے ایک طالب علم کو بھی بحفاظت واپس لایا جا چکا ہے۔یہ طلبہ ایران کے مختلف معروف میڈیکل کالجز میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
وطن واپس پہنچنے والے طلبہ اور ان کے اہلخانہ نے بروقت اور مؤثر اقدامات پر حکومتِ پاکستان اور پاک فوج کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں ریاستی اداروں کی فوری مدد نے انہیں اعتماد اور تحفظ کا احساس دلایا۔
حکام کے مطابق ایران میں موجود دیگر پاکستانی شہریوں اور طلبہ کی واپسی کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
