پی ایچ ایف انتظامیہ کی نااہلی: مصر میں شیڈول ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ بھی داؤ پر لگ گیا
اسلام آباد:پاکستان میں ہاکی کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے، ملک میں کھیلوں کے نگران ادارے پاکستان سپورٹس بورڈ نے آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر تفصیلی موقف پیش کیا ہیے۔
پی ایس بی کے اعلامیے میں انکشاف ہوا ہے کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران کھلاڑیوں کی رہائش، ٹکٹس اور دیگر انتظامی معاملات میں فیڈ ریشن کی انتظامیہ کی جانب سے سنگین تاخیر سامنے آئی ہے، جبکہ فیڈ ریشن کی قیادت اور ٹیم کے ساتھ موجود ذمہ داران مصر میں شیڈول ورلڈ کپ کوالیفائنگ کے لیے تاحال ٹیم کے کھلاڑیوں کی فہرست اور این او سی کے مطلوبہ کاغذات سپورٹس بورڈ کو دینے میں ناکام ہیں، جس کے بعد قومی ٹیم کے اس اہم ترین دورے پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔
سپورٹس بورڈ کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جاری حالیہ بیانات میں پاکستان سپورٹس بورڈ پرعائد الزامات حقائق کے منافی، گمراہ کن اور ریکارڈ کے برعکس ہیں۔
پی ایس بی کے مطابق مستند دستاویزی شواہد واضح کرتے ہیں کہ ہوبارٹ، آسٹریلیا پرو لیگ ہاکی مقابلوں میں قومی ٹیم کی شرکت کے حوالے سے پاکستان سپورٹس بورڈ نے اپنی مالی ذمہ داریاں بروقت اور مکمل طور پر ادا کیں، جبکہ انتظامی اور آپریشنل بے ضابطگیاں فیڈریشن کی سطح پر سامنے آئیں۔
آسٹریلیا ٹور کے لیے ٹیم کی روانگی 2 فروری 2026 کو طے تھی، تاہم پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے ویزا درخواستیں تاخیر اورغلط معلومات کے ساتھ جمع کرانے کے باعث روانگی منسوخ ہوئی۔
پاکستان سپورٹس بورڈ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ذریعے معاملہ آسٹریلین ہائی کمیشن کے ساتھ اٹھایا، جس کے بعد ویزا درخواستیں دوبارہ جمع ہوئیں اور ٹیم 5 فروری کو روانہ ہو کر 7 فروری کو ہوبارٹ پہنچی۔
اصل ایئر ٹکٹ کی لاگت 27.1 ملین روپے پاکستان سپورٹس بورڈ نے برداشت کی، جبکہ ویزا کی غلطیوں کے باعث پیدا ہونے والا اضافی مالی بوجھ 9.7 ملین روپے بھی پاکستان سپورٹس بورڈ نے ادا کیا۔
