امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، خیبر پختونخوا مزید تجربہ گاہ نہیں بنے گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اصل ضرورت انہیں آگے بڑھنے کے لیے مواقع فراہم کرنے کی ہے۔
پشاور میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا طویل عرصے تک بدامنی کا شکار رہا۔
’جس کے باعث نوجوانوں کو تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع سے محروم رکھا گیا، تاہم اب حکومت اس صورتحال کو بدلنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ جدید اصلاحات کے ذریعے صوبے کے نظامِ تعلیم کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے اور نوجوانوں کی تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع پر خطیر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ کسی ذاتی مفاد یا سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ صرف صوبے اور عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔
امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا اب مزید کسی تجربہ گاہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہو چکی ہے، ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا جا چکا ہے، جبکہ آج بھی سکیورٹی اداروں اور فورسز کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے مسلط شدہ فیصلے ہمیشہ مسائل کو جنم دیتے ہیں، وفاق کے ذمے صوبے کے اربوں روپے واجب الادا ہیں، مگر اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔
سہیل آفریدی نے نوجوانوں اور صوبے کے عوام کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی اپنی ذات یا سیاست کے لیے کسی کے در پر نہیں جائیں گے۔
تاہم جہاں بھی صوبے اور عوام کے حقوق کی بات ہو گی، وہاں وہ ہر شخص سے برابری کی سطح پر بیٹھ کر عوام کے مفاد میں بات کریں گے، چاہے ذاتی طور پر اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دباؤ، دھمکیوں، بند کمروں کے فیصلوں یا عمران خان کے نظریے کے بغیر ان سے کچھ منوایا جا سکتا ہے تو یہ محض ایک خام خیالی ہے۔
