امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکت، امریکا کی مختلف ریاستوں میں مظاہرے پھوٹ پڑے
واشنگٹن/نیویارک: امریکا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک شہری کی ہلاکت کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ نیویارک سمیت کئی شہروں میں سخت سردی کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف نعرے لگائے۔
نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں مظاہرین نے ICE کے مبینہ طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف احتجاج کیا اور امیگریشن پالیسیوں میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وفاقی ایجنسی کی کارروائیاں شہریوں کے جان و مال کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ ایلکس جیفری پریٹی ہلاک ہو گیا۔ واقعے کے بعد منی ایپولس میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں، جہاں شہریوں نے ICE کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
یہ واقعہ 7 جنوری کو پیش آنے والے ایک اور واقعے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا، جس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے 37 سالہ خاتون رینی گڈ بھی ہلاک ہو چکی تھیں۔ دونوں واقعات نے امریکا بھر میں امیگریشن پالیسیوں اور وفاقی ایجنٹس کے اختیارات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات نے سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کے بعد کئی ریاستوں میں سول رائٹس تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں نے آزاد تحقیقات اور ICE کے کردار کے ازسرِنو جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاجی مظاہرے نیویارک، منی ایپولس، بوسٹن، لاس اینجلس اور دیگر بڑے شہروں تک پھیل چکے ہیں، جبکہ حکام نے سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا ہے۔
