غزہ میں مظالم کے بعد اسرائیلی فوجیوں میں نفسیاتی مسائل میں تشویشناک اضافہ
غزہ: فلسطینی شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے والے اسرائیلی فوجیوں میں نفسیاتی مسائل میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مختلف سرکاری اور طبی رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد فوجیوں میں ذہنی دباؤ، پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) اور دیگر نفسیاتی امراض کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 60 فیصد سے زائد زخمی اسرائیلی فوجیوں میں شدید ذہنی صدمے کی علامات دیکھی گئیں، جو جنگی ماحول کے گہرے نفسیاتی اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک الگ تحقیق میں بتایا گیا کہ 12 فیصد ریزرو فوجیوں نے PTSD کی علامات ظاہر کیں، جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنگ کے بعد 80 ہزار سے زائد فوجیوں کو ذہنی صحت کے مسائل کے باعث علاج یا مسلسل نگرانی کی ضرورت پیش آئی۔ اس دوران خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے رجحانات میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جس نے اسرائیلی معاشرے میں سنجیدہ خدشات پیدا کیے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ جنگی تشدد، مسلسل خوف، ساتھیوں کی ہلاکت اور انسانی جانوں کے ضیاع کا مشاہدہ فوجیوں پر گہرے نفسیاتی زخم چھوڑتا ہے۔ یہ عوامل عام تشدد یا مجرمانہ سرگرمیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ذہنی صدمہ پیدا کرتے ہیں اور اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجیوں کی نفسیاتی معاونت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسائل نہ صرف فوجیوں کی ذاتی زندگی بلکہ اسرائیلی فوج کی مجموعی کارکردگی اور معاشرتی توازن پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
