روسی آئل ٹینکر پر قبضہ، امریکہ نے فوجی و سیاسی کشیدگی بڑھا دی: روس
ماسکو: روس نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں روسی پرچم والے آئل ٹینکر **میرینیرا** پر قبضہ کر کے امریکا نے فوجی اور سیاسی کشیدگی کو ہوا دی ہے اور بین الاقوامی سمندری قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق امریکی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اس وقت آئل ٹینکر کو اپنی تحویل میں لیا جب جہاز کسی بھی ریاست کی علاقائی حدود سے باہر تھا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تقریباً تین بجے جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
روسی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سنہ 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے تحت کھلے سمندر میں جہاز رانی کی مکمل آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے قانونی طور پر رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکر پر موجود روسی شہریوں کے ساتھ انسانی اور باوقار سلوک کیا جائے، ان کے حقوق کا مکمل احترام کیا جائے اور انہیں فوری طور پر وطن واپس بھیجا جائے۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق میرینیرا، جس کا سابقہ نام بیلا-1 تھا، کو 24 دسمبر 2025 کو روسی پرچم کے تحت عارضی اجازت دی گئی تھی جو روسی اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ماضی میں امریکا کی جانب سے وینزویلا پر عائد سمندری ناکہ بندی سے بچ نکلنے میں بھی کامیاب رہا تھا۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت امریکی کوسٹ گارڈ اور فوج نے انجام دی۔ امریکی مؤقف کے مطابق کارروائی کا مقصد وینزویلا کے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا تھا۔
امریکی حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ کارروائی کے وقت روسی بحری جہاز، جن میں ایک آبدوز بھی شامل تھی، عمومی علاقے میں موجود تھے تاہم کسی قسم کی براہِ راست جھڑپ پیش نہیں آئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ نے وینزویلا پر دباؤ میں اضافہ کر رکھا ہے اور حالیہ دنوں میں صدر نکولس مادورو کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں، جن پر امریکا منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کرتا ہے، تاہم وینزویلا کی قیادت ان الزامات کی سختی سے تردید کرتی ہے۔
روسی حکام نے وینزویلا کی عبوری قیادت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے امریکی اقدامات کو کھلی نوآبادیاتی دھمکی اور غیر ملکی مسلح جارحیت قرار دیا ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، تاہم دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات اب بھی نازک ہیں اور اس نوعیت کے فوجی واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔
