نیپال میں مسجد کی بے حرمتی کے بعد حالات کشیدہ، برگنج میں کرفیو نافذ

0

کھٹمنڈو:نیپال میں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسجد کی بے حرمتی کے بعد حالات شدید کشیدہ ہو گئے ہیں، جس کے پیش نظر حکام نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیپال اور بھارت کی سرحد سے متصل شہر برگنج میں ہندو انتہاپسند عناصر نے مسجد میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار کی اور مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنایا۔

مسجد کی بے حرمتی کے واقعے کے خلاف مقامی افراد سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ الجریدہ کے مطابق احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کٹھمنڈو سے تقریباً 130 کلومیٹر جنوب میں واقع اس سرحدی شہر میں حالات بگڑنے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے، اجتماعات اور مظاہروں کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کو سخت کارروائی اور فائرنگ کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔

 غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکام نے بتایا کہ اتوار کے روز ہندو انتہاپسند عناصر نے مسجد پر دھاوا بولا اور لوٹ مار کی، جس کے بعد مقامی مسلمان شدید غم و غصے میں مبتلا ہیں۔ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے قریب واقع اس سرحدی علاقے میں انتہاپسند نظریات کی سرحد پار حمایت کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ انسانی حقوق کے حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذہبی مقامات کے تحفظ اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.