بھارت نے تاجکستان میں عینی ائیر بیس سے مکمل انخلا کرلیا، واحد بیرونِ ملک فوجی اڈہ ختم
نئی دہلی:بھارت نے تاجکستان میں اپنے فوجی اڈے عینی ائیر بیس سے مکمل انخلا کرلیا ہے، جسے وسط ایشیا میں بھارت کی اسٹریٹجک حکمتِ عملی کا اہم ستون سمجھا جاتا تھا۔ اس اقدام کے بعد بھارت کا واحد بیرونِ ملک فوجی اڈہ ختم ہو گیا ہے۔
بھارتی حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ انخلا دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی معاہدے کی میعاد مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔ بھارت نے عملی طور پر 2022 میں ہی ائیر بیس خالی کر دی تھی تاہم اس کی باضابطہ تصدیق اب سامنے آئی ہے۔
بھارت نے عینی ائیر بیس کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا، جہاں رن وے کو اپ گریڈ کیا گیا، ایندھن کے ذخائر قائم کیے گئے اور ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔** ایک مرحلے پر بھارتی فضائیہ کے Su-30MKI لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹرز بھی اس اڈے پر تعینات تھے۔
یہی فضائی اڈہ 2021 میں افغانستان سے بھارتی شہریوں کے انخلا کے دوران آخری مرتبہ فعال طور پر استعمال ہوا تھا۔انخلا کے بعد بھارت کی وسط ایشیائی خطے میں فوجی موجودگی مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے، جسے تجزیہ کار علاقائی اثر و رسوخ میں کمی سے تعبیر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری جیرام رمیش نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ "عینی ائیر بیس بھارت کے لیے غیر معمولی جغرافیائی اہمیت رکھتا تھا، اور بھارت وہاں اپنی موجودگی بڑھانے کے بڑے منصوبے رکھتا تھا، مگر اب اسے مکمل طور پر خالی کر دیا گیا ہے۔”انہوں نے اس فیصلے کو بھارت کی اسٹریٹجک سفارت کاری کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے وسط ایشیا میں حاصل کی گئی ایک اہم کامیابی کو ضائع کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا تاجکستان سے انخلا اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں چین اور روس اپنی دفاعی اور اقتصادی موجودگی مزید مستحکم کر رہے ہیں، جس سے جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کی جغرافیائی سیاست پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
