مالدیپ دنیا کا پہلا ملک بن گیا جہاں ایک پوری نسل کے لیے تمباکو نوشی پر پابندی عائد

0

مالے:مالدیپ دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں ایک مخصوص نسل کے لیے تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2007 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کے لیے سگریٹ خریدنا یا انہیں فروخت کرنا اب غیر قانونی ہوگا۔ یہ تاریخی قانون یکم نومبر 2025 سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔

مالدیپ کی وزارتِ صحت کے مطابق یہ اقدام عوامی صحت کے تحفظ اور تمباکو سے پاک نئی نسل تیار کرنے کی سمت ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ حکومت کا ہدف ایک ایسا مستقبل تخلیق کرنا ہے جہاں نوجوان تمباکو نوشی سے مکمل طور پر آزاد ہوں۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 70 لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔2021 کے اعداد و شمار کے مطابق مالدیپ میں 15 سے 69 سال کی عمر کے افراد کی 25 فیصد سے زائد آبادی تمباکو نوشی کی عادی ہے، جب کہ 13 سے 15 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح تقریباً دوگنا ہے، جو حکومتی سطح پر تشویش کا باعث بنی۔

وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف نئی نسل کو تمباکو کی لت سے بچایا جا سکے گا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بالغ افراد میں بھی سگریٹ نوشی کی شرح میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

اگرچہ مالدیپ پہلا ملک ہے جس نے تمباکو نوشی پر مکمل نسلی بنیادوں پر پابندی عائد کی ہے، لیکن دیگر ممالک میں بھی اس طرح کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔نیوزی لینڈ نے 2022 میں اسی نوعیت کا قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت 2009 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو سگریٹ خریدنے کی اجازت نہیں تھی، تاہم یہ قانون ایک سال بعد واپس لے لیا گیا۔اسی طرح برطانیہ میں بھی تمباکو نوشی پر بتدریج پابندی کے بل زیرِ غور آئے مگر تاحال منظور نہیں ہو سکے۔

مالدیپ میں اس سے قبل بھی تمباکو مصنوعات کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے تھے۔ حکومت نے 2024 کے اختتام پر ای سگریٹس (E-cigarettes) کی تیاری، درآمد اور ہر عمر کے افراد کے لیے فروخت پر بھی پابندی عائد کی تھی۔حکام کو امید ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف یہ جامع اقدامات آنے والے برسوں میں مالدیپ کو تمباکو سے پاک معاشرے کی طرف لے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.