اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں 2 یرغمالیوں سے رابطہ منقطع ہوگیا: حماس
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ غزہ شہر میں اسرائیلی حملوں کے بعد 2 یرغمالیوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
مزاحمتی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ شمالی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے 24گھنٹوں کے لیے روکے جائیں تاکہ یرغمالیوں کو خطرے سے نکالا جاسکے۔حماس کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں سے رابطہ منقطع ہونا اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور شدید بمباری کا نتیجہ ہے۔
غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے نصیرت پناہ گزین کیمپ سمیت مختلف رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، تازہ حملوں میں مزید 41 فلسطینی شہید ہوگئے۔خان یونس میں ڈھائی ماہ کا بچہ بھوک اور علاج نہ ملنے کے باعث دم توڑ گیا۔
فلسطینی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں رہائشی مکانات اور عمارتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس کے باعث طبی ٹیموں کے لیے زخمیوں تک پہنچنا اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث 66 ہزار افراد شہید اور ایک لاکھ 68 ہزار 162 زخمی ہوچکے ہیں۔
