امریکہ اور یورپ میں دفاعی اختلافات نمایاں ، یورپ کا متبادل دفاعی نظام تیز کرنے کا فیصلہ

0

نیویارک  :امریکی جریدے  وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا کے ممکنہ طور پر نیٹو سے انخلا کے خدشات کے باعث یورپی ممالک نے اپنے دفاعی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی رفتار تیز کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک ایک ایسے تصور پر کام کر رہے ہیں جسے غیر رسمی طور پر “یورپی نیٹو” کہا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت یورپ کو کمانڈ اینڈ کنٹرول، دفاعی حکمتِ عملی اور آپریشنل قیادت میں زیادہ خود مختاری دینے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ امریکی انخلا کی صورت میں دفاعی نظام متاثر نہ ہو۔

منصوبے کا بنیادی مقصد موجودہ اتحاد کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس کی عملی صلاحیت کو یورپی سطح پر برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کی دفاعی پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ  کے حالیہ بیانات، نیٹو سے ممکنہ علیحدگی کے اشارے اور گرین لینڈ سے متعلق بیانات نے یورپی خدشات میں اضافہ کیا ہے، جس کے بعد دفاعی خود کفالت کی ضرورت مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران سے متعلق کشیدگی اور امریکا و یورپ کے درمیان پالیسی اختلافات نے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات پر بھی اثر ڈالا ہے۔ اسی پس منظر میں یورپی ممالک فضائی دفاع، انٹیلیجنس، لاجسٹکس اور فوجی کمانڈ جیسے اہم شعبوں میں خلا پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یورپ میں دفاعی منصوبے کے تحت لازمی فوجی سروس کی بحالی اور دفاعی پیداوار بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا چیلنج امریکا کے جوہری تحفظ اور جدید سیٹلائٹ و انٹیلیجنس نظام کا متبادل تیار کرنا قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرانس اور جرمنی کے درمیان یورپی جوہری دفاع کے دائرہ کار کو وسیع کرنے سے متعلق ابتدائی بات چیت جاری ہے، جسے اس نئی حکمتِ عملی کا سب سے حساس پہلو سمجھا جا رہا ہے۔

اس سے قبل بھی نیٹو کے مستقبل اور یورپی دفاعی خود مختاری سے متعلق بحث مختلف ادوار میں سامنے آتی رہی ہے، تاہم موجودہ پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.