پاکستان کے ذریعے ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت، مکمل جنگ بندی مذاکرات کا مرکزی ایجنڈا قرار
تہران :ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ سفارتی پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ مذاکرات کا بنیادی محور مکمل جنگ بندی ہوگا۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ اتوار سے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، اور ایران کو پاکستان کی جانب سے باضابطہ رابطے موصول ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کا مؤقف واضح ہے کہ بات چیت کا مقصد جامع جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کی طرف پیش رفت ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ قوی امکان ہے کہ ایران مذاکراتی عمل کے تسلسل میں آج پاکستانی وفد کی میزبانی کرے گا، جس میں مختلف اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔
ترجمان کے مطابق مذاکرات میں جنگ بندی، اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے جیسے معاملات زیر غور آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ بھی پیش کیا، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
ایرانی ترجمان نے امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایران کے ساتھ دشمنی کا رویہ رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی میں توسیع سے متعلق رپورٹس فی الحال تصدیق شدہ نہیں ہیں۔
سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ہونے والی یہ بات چیت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش تصور کی جا رہی ہے، تاہم اس کے نتائج کا انحصار فریقین کے عملی مؤقف پر ہوگا۔
