امریکا کا ایران کے خلاف ’ایپک فیوری‘ آپریشن کامیاب قرار، تہران جنگ بندی پر مجبور ہوا: امریکی وزیر دفاع

0

واشنگٹن:امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایران جنگ بندی پر مجبور ہوا۔

میڈیا سے گفتگو میں پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں کیے گئے آپریشن ’ایپک فیوری‘ نے امریکا کو فیصلہ کن برتری دلائی۔ ان کے مطابق امریکا نے اپنی فوجی طاقت کا محدود حصہ استعمال کرتے ہوئے ایران کی اسلحہ ساز تنصیبات، فضائیہ اور بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سینکڑوں میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیے گئے جبکہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی بڑا دھچکا لگا۔ امریکی وزیر دفاع کے مطابق ایران کی عسکری اور انٹیلیجنس قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا اور اس کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کر دیا گیا۔

پیٹ ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ ایران مزید امریکی حملوں کا مقابلہ نہ کر سکا اور جنگ بندی پر آمادہ ہوا، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے جس کی نگرانی امریکی بحریہ کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی جانب سے دوبارہ کوئی جارحیت ہوئی تو امریکی افواج فوری کارروائی کریں گی۔

دوسری جانب جنرل ڈین کین نے بتایا کہ 38 روزہ آپریشن میں امریکا نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کے مطابق اس دوران 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 520 اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے ایک بڑے ریسکیو مشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 155 طیاروں کی مدد سے دشمن کے علاقے میں پھنسے پائلٹ کو بحفاظت نکالا گیا، جسے انہوں نے ’عسکری معجزہ‘ قرار دیا۔

جنرل کین کے مطابق آپریشن کے دوران کچھ امریکی طیاروں کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر خود تباہ کیا گیا تاکہ حساس ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو 90 فیصد تک تباہ کر دیا گیا ہے اور اب یہ خطرہ نمایاں حد تک کم ہو چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.