ایلیزی پیلس سے ایک بڑی اور تاریخی خبر:فرانس میں فلسطین کی پہلی سفیر کا باضابطہ تقرر
پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس کے ایلیزی پیلس میں فلسطینی سفیر ہالہ ابو حصیرہ سے ان کی سفارتی اسناد وصول کیں، جس کے بعد وہ فرانس میں فلسطین کی پہلی ‘سفیرِ غیر معمولی اور بااختیار’ کے طور پر تعینات ہو گئی ہیں۔
یہ قدم فرانس اور فلسطین کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے سفارتی تعلقات کا واضح مظہر ہے اور عالمی سطح پر فلسطین کے حقِ خودارادیت اور خطے میں امن کی کوششوں کے لیے اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
اس تقریب کے دوران صدر میکرون نے فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کے لیے فرانس کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور فلسطین کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقوق کے تحفظ میں مدد فراہم کرے گا۔
ہالہ ابو حصیرہ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اقتصادی، تعلیمی، ثقافتی اور سفارتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور فرانس کے درمیان یہ تاریخی اقدام خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔
پس منظر:
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب فرانس نے باضابطہ طور پر فلسطین کو تسلیم کیا ہے، جس سے فلسطین کے عالمی سطح پر سفارتی تشخص میں اضافہ ہوا ہے۔
اس اقدام سے نہ صرف فرانس اور فلسطین کے درمیان تعلقات کو قانونی اور رسمی شکل ملتی ہے بلکہ یہ خطے میں دو ریاستی حل کے حصول اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے فروغ کے لیے بھی اہم پیش رفت ہے۔ اس فیصلے کو عالمی سطح پر فلسطینی امور کے حوالے سے مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
