پیپلز پارٹی کی مولانا فضل الرحمن کو بڑی سیاسی پیشکش، سندھ و بلوچستان حکومت میں شمولیت کی دعوت
جی بی اور کشمیر میں تعاون کے بعد نئی پیشکش، سیاسی سرگرمیاں تیز، اپوزیشن وفود بھی متحرک
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ایک اہم سیاسی پیشکش کرتے ہوئے انہیں سندھ اور بلوچستان حکومت میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمن کو نہ صرف گلگت بلتستان اور کشمیر کے معاملات میں تعاون کی پیشکش کی بلکہ سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں میں شامل ہو کر مشترکہ سیاسی حکمت عملی اپنانے کی دعوت بھی دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری خصوصی طور پر یہ پیشکش لے کر مولانا فضل الرحمن کے پاس گئے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات اور ممکنہ اتحادوں پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔
ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر چلیں تاکہ ایک مضبوط سیاسی اتحاد تشکیل دیا جا سکے۔ تاہم مولانا فضل الرحمن نے اس پیشکش پر فوری فیصلہ دینے کے بجائے اپنی جماعت سے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا۔

ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے بعد سندھ کی اپوزیشن جماعتیں بھی متحرک ہو گئی ہیں اور امکان ہے کہ جلد ایک وفد مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کرے گا تاکہ انہیں اپنے مؤقف سے آگاہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی قیادت بھی سرگرم ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر پگارا کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو خصوصی پیغام بھجوایا جا رہا ہے، جبکہ ان کے صاحبزادے راشد شاہ نے بھی مولانا سے رابطہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن اور پیر راشد شاہ کے درمیان آج رات اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں جی ڈی اے کا اعلیٰ سطحی وفد بھی شریک ہوگا۔ وفد میں ڈاکٹر صفدر عباسی، معظم عباسی اور محمد خان جونیجو شامل ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت ملک میں نئے سیاسی اتحادوں کی تشکیل اور آئندہ انتخابات سے قبل جوڑ توڑ کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔
