پاکستانی معیشت میں اصلاحات اور سفارتکاری کے مثبت اثرات واضح، معاشی اشاریے بلند
اسلام آباد:پاکستانی معیشت میں جاری اصلاحات اور کامیاب سفارتکاری کے مثبت اثرات واضح طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر ایک بااعتماد اور مضبوط قوت کے طور پر ابھرا ہے اور امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج نمایاں ہیں۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر مسلسل 33 ہفتوں سے بڑھ کر تقریباً 21.7 ارب ڈالر کی چار سالہ بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں، جبکہ ایندھن کے ذخائر کی مدتِ دستیابی 3.5 ہفتوں سے بڑھ کر تقریباً 4 ہفتے ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایشیا کے تجارتی راستوں کے لیے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر ابھرا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جو بیرونی شعبے میں بہتری کا اشارہ ہے۔ مینوفیکچرنگ شعبے میں تیزی، ایل ایس ایم میں 12.1 فیصد ماہانہ اور 10.5 فیصد سالانہ اضافہ جبکہ مجموعی قومی نمو 5.8 فیصد رہی۔
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ 5 جی آکشن میں 500 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ بڑے عالمی سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلانات کیے، ترسیلات زر میں 11 فیصد اضافہ اور آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے مستحکم ہونے کی علامت ہیں۔
