2026 ورلڈ کپ سے پہلے سعودی عرب فٹبال کی سپر پاور بن گیا، پرو لیگ ٹاپ 3 میں داخل

0

ریاض: فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے 21 دسمبر کو سعودی عرب کے فٹبال مستقبل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب عالمی فٹبال کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے اور سعودی پرو لیگ دنیا کی ٹاپ 3 لیگز میں شامل ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔

انفانٹینو نے کریسٹیانو رونالڈو، کریم بینزیمہ جیسے عالمی سپر اسٹارز کی موجودگی اور شائقین کے جوش و جذبے کو سعودی فٹبال کی کامیابی کی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں مردوں، خواتین اور یوتھ فٹبال میں ہونے والی ترقی کو بھی سراہا اور 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کے کامیاب انعقاد کی پیش گوئی کی۔ اس مقصد کے لیے اسٹیڈیمز کی تعمیر و توسیع، ایکسپو 2030 کے منصوبے اور فٹبال اصلاحات تیزی سے جاری ہیں۔

تاہم قومی ٹیم کے حوالے سے تصویر مکمل طور پر روشن نہیں ہے۔ 2025 کے عرب کپ میں سیمی فائنل میں اردن کے ہاتھوں 1-0 کی شکست نے شائقین کو مایوس کیا، اور ٹیم کی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔ ہروے رینارڈ کی واپسی کے بعد سعودی عرب نے مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا، مگر عرب کپ میں ناکامی اور غیر متاثر کن کارکردگی نے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

2026 کے فیفا ورلڈ کپ میں سعودی عرب گروپ H میں یوراگوئے، یورپی چیمپئن اسپین اور کیپ وردے کے ساتھ مقابلہ کرے گا، جبکہ میچز میامی، اٹلانٹا اور ہیوسٹن میں کھیلے جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق قومی ٹیم کے سب سے بڑے مسائل فائنل تھرڈ میں گول کرنے کی کمی اور مڈفیلڈ میں سلمان الفرج کا متبادل نہ ہونا ہیں۔

34 سالہ سالم الدوسری اب بھی ٹیم کا سب سے بڑا سہارا ہیں، جنہیں 2025 میں اے ایف سی پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز ملا، جو وہ دوسری مرتبہ جیتنے والے واحد سعودی کھلاڑی ہیں۔ کلب سطح پر کرسٹیانو رونالڈو کی قیادت میں النصر اس سیزن میں ناقابلِ شکست دکھائی دے رہا ہے، تمام 9 میچز جیت کر ٹیبل پر سرفہرست ہے۔ الہلال، الاتحاد اور الاہلی بھی ایشیائی سطح پر سعودی لیگ کی بالادستی کو ثابت کر رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری، جیسے الخلود کی مکمل امریکی ملکیت، لیگ میں نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سعودی پرو لیگ اس وقت ایشیا کی سب سے طاقتور اور دلچسپ لیگ بن چکی ہے، لیکن قومی ٹیم کی عالمی معیار پر کارکردگی اب بھی غیر یقینی ہے۔ 2026 ورلڈ کپ تک یہ سوال برقرار رہے گا کہ آیا سعودی عرب کی قومی ٹیم بھی لیگ کی طرح عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا سکے گی یا نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.