پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی: اسپیکر کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ جاری، ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش

0

لاہور:پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی آمد کے موقع پر پیش آنے والی ہنگامہ آرائی سے متعلق اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔

رپورٹ میں واقعے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور معاملے کی مکمل تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد لینے کی واضح سفارش کی گئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ آنے والے افراد کے صرف ناموں کی ایک فہرست فراہم کی گئی، تاہم اس فہرست میں شناختی کارڈ نمبرز، تصاویر اور گاڑیوں کے نمبرز جیسی بنیادی معلومات شامل نہیں تھیں، جس کے باعث متعلقہ افراد کی شناخت میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مطیع اللّٰہ برقی نامی شخص نے جھوٹ بول کر پنجاب اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ صوبائی وزیر خیبر پختونخوا مینا خان نے کمیٹی کے سامنے اس بات کی تصدیق کی کہ مطیع اللّٰہ برقی، ایم پی اے اشفاق نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب مطیع اللّٰہ برقی کو اسمبلی سے باہر جانے کا کہا گیا تو اس نے سکیورٹی اہلکاروں سے ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کی۔

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اپوزیشن کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ شناخت کے لیے دو پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے مین گیٹ پر موجود ہوں گے، تاہم عملی طور پر ایسا نہیں ہو سکا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

کمیٹی کے مطابق اسمبلی سکیورٹی نے تحمل اور قانون کے مطابق شناخت مکمل کرنے کی کوشش کی، تاہم اس دوران سکیورٹی عملے کے ساتھ بدتمیزی، دھکم پیل اور نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اپوزیشن کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں سزا یافتہ شخص حیدر مجید کا نام بھی شامل تھا، جو سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھانے کا سبب بنا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اسمبلی سکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، جبکہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ اسمبلی کے تقدس اور نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.