نئے وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی حلف برداری کب ہوگی؟ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا
پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے نئے وزیرِاعلیٰ کی حلف برداری میں تاخیر سے متعلق تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی آرٹیکل 255 کے تحت دائر آئینی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
سماعت چیف جسٹس عتیق شاہ کی سربراہی میں ہوئی، جس دوران عدالت نے متعدد بار گورنر خیبرپختونخوا کے مؤقف پر استفسار کیا۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ’ہمیں یہ بتائیں کہ گورنر نے اس حوالے سے کیا کہا ہے؟‘جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر سرکاری دورے پر کراچی میں ہیں اور وہ کل فلائٹ کے ذریعے واپس آئیں گے۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو کیا وہ کل حلف لیں گے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر نے علی امین گنڈا پور کو طلب کیا ہے۔
جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو ایک الگ معاملہ ہے، ہمیں یہ بتائیں کہ حلف لیں گے یا نہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ گورنر کل واپس آکر قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کریں گے۔
گورنر کے وکیل عامر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ علی امین گنڈا پور کو طلب کرنے کے بعد گورنر کراچی گئے تھے، اور واپسی کے بعد وہ قانون کے مطابق اقدام اٹھائیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ کے استعفیٰ دینے سے ہی استعفیٰ ہو جاتا ہے، چاہے گورنر منظور کریں یا نہیں۔
گورنر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ابھی یہ کہنا کہ گورنر حلف نہیں لیں گے، قبل از وقت ہے۔
چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا:’کیا کل یہ ممکن ہوگا کہ گورنر حلف لینے کا فیصلہ کریں، نہ کہ استعفیٰ کے معاملے پر فیصلہ کریں؟ علی امین نے تو اسمبلی فلور پر استعفیٰ کی تصدیق کر دی تھی۔‘وکیلِ گورنر نے مؤقف اپنایا کہ چونکہ گورنر اس وقت صوبے میں موجود نہیں تھے، وہ کوئی فیصلہ خود دیکھے بغیر نہیں کر سکتے۔
پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ’علی امین گنڈا پور نے استعفیٰ دیا اور نئے وزیرِاعلیٰ کو ووٹ بھی دیا۔ گورنر تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، اور امکان ہے کہ وہ کل بھی کوئی نیا راستہ اختیار کر کے معاملہ مؤخر کریں۔‘فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر چیف جسٹس عتیق شاہ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
