آئل کمپنیز کے ڈیزل قیمت فارمولے پر تحفظات، ایندھن سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

128 ارب روپے بقایا جات اور ادائیگیوں میں تاخیر پر او سی اے سی کا احتجاج، حکومت کو انتباہ

0

اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام پر اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جہاں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

او سی اے سی کے مطابق قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی اور 128 ارب روپے سے زائد کے پرائس ڈیفرنشل کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو شدید مالی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

کونسل نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا مالی بحران پیٹرولیم سیکٹر کی لیکویڈیٹی کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایندھن کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

او سی اے سی نے علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کو 13 اپریل 2026 کو لکھے گئے خط میں کہا کہ بیک وقت دو بڑے عوامل،قیمتوں کے فارمولے میں تبدیلی اور ریگولیٹری ادائیگیوں میں تاخیرنے آئل کمپنیوں پر “شدید مالی دباؤ” ڈال دیا ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر یہ مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور دستیابی میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، جو ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کریں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.