وزیراعظم کی زیر صدارت جائزہ اجلاس:تیل اور سبسڈی کی ادائیگی کے لیے شفاف ڈجیٹل نظام کا نفاذ
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک میں موجودہ خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر معاشی استحکام کے لیے کفایت شعاری سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں آج سے نافذ العمل بازار اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کے انتظامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ علاقائی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر پوری قوم کو پیٹرول کی بچت اور کفایت شعاری کی مہم میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابلِ معافی ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار کا ایک حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر منحصر ہے اور مارکیٹس 8 بجے بند کرنے کے اقدامات کا مقصد نہ صرف قیمتی زر مبادلہ بچانا بلکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا بھی ہے۔
اجلاس میں سندھ حکومت کے ساتھ مشاورت جاری ہونے کا بھی ذکر کیا گیا تاکہ مارکیٹس اور شاپنگ مالز کے اوقات کار کے تعین کو موثر بنایا جا سکے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں سے تیل پر سبسڈی کے حامل افراد کے کوائف موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں اور تصدیق کے بعد ایک شفاف ڈجیٹل نظام کے ذریعے سبسڈی کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ وزارتِ آئی ٹی اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے 4 اپریل سے مال بردار گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کو سبسڈی کی فراہمی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار، وفاقی وزرا ڈاکٹر احسن اقبال، عبد العلیم خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، سردار اویس احمد لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی طارق باجوہ اور طلحہ برکی، گورنر سٹیٹ بینک، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز اور انسپیکٹر جنرل آف پولیس سمیت متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
