مودی کی اسرائیل نواز پالیسی پر اندرونِ بھارت شدید تنقید، اپوزیشن کا ایران حملوں کی تائید کا تاثر مسترد
نئی دہلی :بھارت میں وزیرِ اعظم مودی کی اسرائیل سے قربت اور حالیہ دورے پر سیاسی درجۂ حرارت بڑھ گیا ہے۔
مختلف اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی نے خطے میں کشیدگی کو ہوا دی اور بھارت کی نام نہاد غیر جانبداری کے دعوؤں کو کمزور کیا ہے۔
عالمی جریدے بلوم برگ کے مطابق بھارتی اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل سے یہ تاثر ابھرا کہ نئی دہلی نے ایران پر فضائی حملوں کی بالواسطہ تائید کی، جس سے خطے میں بحران گہرا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران میں بڑھتی کشیدگی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر اثر ڈال سکتی ہے، جس کے بھارتی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
اپوزیشن کی بڑی جماعت بھارتی نیشنل کانگریس کے ترجمان نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق حکومتی مؤقف “بھارت کی روایتی اقدار اور طویل المدتی مفادات کے برعکس” ہے۔ ناقدین کے مطابق خارجہ پالیسی میں توازن کا فقدان نہ صرف علاقائی سفارت کاری کو متاثر کر رہا ہے بلکہ توانائی اور تجارت کے شعبوں میں غیر یقینی صورتحال بھی بڑھا رہا ہے۔
رپورٹس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں کی سکیورٹی پالیسیوں پر بھی عالمی سطح پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس سے بھارت کی انسانی حقوق سے متعلق شبیہ متاثر ہو سکتی ہے۔
یہود و ہندود گٹھ جوڑ، مسلم نسل کشی پر انتہاپسند مودی کو اسرائیل نواز پالیسی پر کڑی تنقید کا سامناhttps://t.co/RSRPYFWpQI pic.twitter.com/jeNFkfxRcd
— PTV News (@PTVNewsOfficial) March 2, 2026
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی صف بندی اور طاقت کے استعمال کی پالیسی کسی بھی ملک کے لیے طویل المدتی استحکام کی ضمانت نہیں دیتی۔
ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سفارتی توازن، علاقائی ہم آہنگی اور معاشی مفادات کا تحفظ سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے تاکہ خطہ کسی وسیع تر تصادم کی طرف نہ بڑھے۔
