غزہ امن بورڈ اجلاس: پاکستان کا مؤقف فلسطین کے حق میں غیر متزلزل ہے، طاہر اشرفی

0

اسلام آباد: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان اور اسلامی ممالک کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت اہلِ فلسطین کے مفاد میں ہے اور اس سے پاکستان کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اپنے اہم بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام اور ریاست کا فلسطین کے مسئلے پر موقف ایک اور متفقہ ہے، تاہم بعض عناصر سیاسی مقاصد کے لیے پاکستانی قوم میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طاہر اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم  شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے ہمیشہ فلسطین کے معاملے پر امتِ مسلمہ کی ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ غزہ امن بورڈ کے آج ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان ایک بار پھر فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو اجاگر کریں گے۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے واضح کیا کہ پاکستان کا موقف دوٹوک ہے: ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، غزہ کی تعمیر نو، مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی بربریت کا خاتمہ۔

طاہر اشرفی  کے مطابق غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کے منظور شدہ جنگ بندی اور تعمیرِ نو فریم ورک میں پاکستان کی شرکت کسی پالیسی تبدیلی کی علامت نہیں۔ قیامِ پاکستان سے آج تک پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔

وزیر اعظم پاکستان کے کوارڈی نیٹر  نے مزید کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت ایک اجتماعی اقدام ہے جس میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں، اس لیے اسے کسی بھی قسم کی “نارملائزیشن” سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کثیرالجہتی فورمز میں شرکت سفارتی تعلقات کے مترادف نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری کا مظہر ہوتی ہے۔

طاہر اشرفی نے زور دیا کہ پاکستان کی شرکت اس واضح شرط کے ساتھ ہے کہ مستقل جنگ بندی ہو، غزہ کی تعمیر نو ہو اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے وہی ممالک بہتر طور پر متاثر کر سکتے ہیں جو مذاکراتی میز پر موجود ہوں، اور پاکستان وہاں فلسطینی مفادات کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ پاکستان کا تاریخی مؤقف آج بھی وہی ہے: فلسطین کی مکمل حمایت اور اسی اصول پر قائم رہتے ہوئے عملی کردار ادا کرنا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.