آزاد کشمیر میں صدارتی انتخاب پر اختلافات، نئی حکومت کو بڑے سیاسی بحران کا سامنا

0

اسلام آباد:آزاد جموں و کشمیر میں نئی حکومت کو اقتدار سنبھالے تین ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے کہ ایک بڑے سیاسی بحران نے سر اٹھا لیا ہے۔

 صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد نئے صدر کے انتخاب پر شدید اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جس سے حکومتی استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر سلطان گروپ کے حکومت میں شامل 9 اراکین اسمبلی نے بھی علیحدہ گروپ تشکیل دے دیا ہے، جبکہ بیرسٹر گروپ نے پیپلز پارٹی سے صدرِ ریاست کا عہدہ مانگ لیا ۔ ان اندرونی اختلافات کے باعث پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی حکومت میں دراڑیں مزید گہری ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی نے نئے صدر اور ڈپٹی اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی تیاری شروع کر دی ہے۔

 فریال تالپور کی زیر صدارت زرداری ہاؤس میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صدارتی انتخاب سے قبل ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تحریک کے لیے 19 اراکین اسمبلی کے دستخط بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اس لیے صدر بھی پیپلز پارٹی سے ہی ہوگا۔ تاہم سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ نیا صدر آئے گا اور آئندہ انتخابات کے بعد حکومت مسلم لیگ (ن) کی ہوگی۔

مسلم لیگ (ن) نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث پیپلز پارٹی کو عددی اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سیاسی صورتحال کے پیش نظر آزاد کشمیر اسمبلی میں جوڑ توڑ اور رابطے تیز ہو گئے ہیں جبکہ صدر کے عہدے کے لیے کئی امیدواروں نے لابنگ شروع کر دی ہے۔

سیاسی عدم استحکام کے باعث آزاد کشمیر میں حکومتی مستقبل غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے، اور مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کی سیاست ایک بار پھر بڑی تبدیلی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، جہاں آئندہ چند روز میں اہم اور فیصلہ کن پیش رفت متوقع ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.