سویڈن میں عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی کی تجویز، نائب وزیرِاعظم کا مطالبہ

0

 سویڈن کی نائب وزیرِاعظم اور حکمران جماعت کرسچین ڈیموکریٹس کی سربراہ ایبا بُش نے عوامی مقامات پر برقع اور نقاب پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکمل چہرہ ڈھانپنے والا لباس سویڈش اقدار، سماجی ہم آہنگی اور صنفی مساوات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ایبا بُش کے مطابق عوامی زندگی میں افراد کے درمیان چہرہ بہ چہرہ رابطہ معاشرتی تعلقات اور باہمی اعتماد کے لیے ضروری ہے، جبکہ مکمل نقاب اس عمل میں رکاوٹ بنتا ہے۔ سویڈن ایک کھلا اور جمہوری معاشرہ ہے جہاں شفافیت اور باہمی شناخت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

نائب وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ مسلمان سویڈن میں خوش آمدید ہیں، تاہم ان کے بقول اسلام کو عوامی سطح پر سویڈش معاشرتی اصولوں اور قوانین کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ ایبا بُش نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ بعض مواقع پر برقع یا نقاب خواتین پر دباؤ کے تحت پہنایا جاتا ہے، اس لیے اس مسئلے کو خواتین کے حقوق اور آزادی سے بھی جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے۔

 

یہ تجویز تاحال کسی قانون کی شکل اختیار نہیں کر سکی، تاہم اس پر سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی کسی بھی پابندی سے مذہبی آزادی اور ذاتی انتخاب کے حق پر قدغن لگ سکتی ہے، جبکہ حامیوں کے مطابق یہ قدم معاشرتی انضمام، سیکولر اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.