"آمرانہ قانون کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا” اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی کا شدید ردِعمل
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی سے متعلق رول 265کی بحالی پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ عدالت نے ایک ایسے قانون کو بحال کیا ہے جو "غلامی اور آمرانہ دور کی علامت” ہے۔
پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی درخواست پر رول 265 کو بحال کر دیا، جس کے تحت قیدیوں کو سیاسی گفتگو سے روکا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ عمران خان جیسے قومی رہنما کی آواز دبانے اور ان کے سیاسی اظہار کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ مارچ 2025میں عدالت نے واضح حکم دیا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیوں کی فہرست کے مطابق منگل اور جمعرات کو ملاقات کرائی جائے، لیکن اڈیالہ جیل انتظامیہ عدالتی فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہی ہے۔
پارٹی کے مطابق آج بھی عدالت کی اجازت کے باوجود وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور جنید اکبرکو جیل کے دروازے پر روک دیا گیا اور ملاقات نہ ہونے دی گئی۔اعلامیے میں سوال اٹھایا گیا کہ "اگر عدالت اپنے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرا سکتی تو انصاف کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟”
ترجمان نے کہا کہ ایک طرف عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، دوسری جانب سیاسی قیدیوں کے لیے آمرانہ قانون بحال کر کے اُن کے منہ پر تالے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو **عمران خان کو مکمل طور پر خاموش کرنے کے منصوبے** کا حصہ ہے۔
پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں، ان کی سیاست پر بات کرنا جرم نہیں بلکہ شہریوں کا حق ہے۔ ایسے قوانین جو سیاسی رہنماؤں کی زبان بندی کے لیے استعمال ہوں، وہ جمہوریت نہیں بلکہ فسطائیت کی بدترین شکل ہیں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ عمران خان کی آواز قید نہیں کی جا سکتی۔ اُن کے نظریے کو کسی ظالمانہ فیصلے یا آمرانہ قانون سے دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے کہا، “عمران خان بولیں گے اور انشاءاللہ پورا پاکستان اُن کے ساتھ بولے گا۔”
