مستونگ میں 9 مزدور اغوا، ڈی ایس پی نوشکی کی لاش بھی برآمد
کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد نے 9 مزدوروں کو اغوا کر لیا۔ لیویز ذرائع کے مطابق واقعہ دشت کے علاقے سیاہ پُشت میں پیش آیا جہاں مزدور چوکیوں کی تعمیر کے کام میں مصروف تھے۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد اچانک وہاں پہنچے اور مزدوروں کو اسلحے کے زور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔ اغوا ہونے والوں میں 4 مقامی اور 5 سندھی مزدور شامل ہیں۔ بعد ازاں ایک مقامی مزدور کو رہا کر دیا گیا جبکہ باقی 8 مزدوروں کو نامعلوم مقام کی جانب لے جایا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا کیونکہ ٹھیکیدار اور متعلقہ حکام نے ابھی تک باضابطہ درخواست جمع نہیں کرائی۔ لیویز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب مستونگ ہی سے آج ایک اور افسوسناک خبر موصول ہوئی ہے۔ اغوا کے بعد لاپتا ہونے والے ڈی ایس پی نوشکی پولیس یوسف ریکی کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتول افسر کی لاش کردگاپ کے علاقے گرگینہ کلی شربت خان سے ملی۔
اطلاعات کے مطابق، ڈی ایس پی یوسف ریکی ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب لاپتا ہوئے تھے جب وہ نوشکی سے کوئٹہ جا رہے تھے۔ نامعلوم افراد نے انہیں راستے سے اغوا کر لیا تھا۔ آج صبح پولیس کو ایک لاش کی اطلاع ملی ہے، جس کی شناخت بعد میں ڈی ایس پی یوسف ریکی کے طور پر کی گئی۔
لاش کو قانونی کارروائی کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ نامعلوم ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
