بھارتی اداکار و سیاستدان کے جلسے میں بھگدڑ، 31 افراد ہلاک، 50 زخمی
بھارت کے جنوبی صوبے تمل ناڈو میں مشہور اداکار و سیاستدان جوزف وجے (تھلپتی وجے) کی جماعت تمیلاگی ویٹری کزہگم کے جلسے کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 31 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ کرور ضلع میں پیش آیا، جہاں ہزاروں حامیوں کی بھاری بھگت نے صورتحال کو کنٹرول سے باہر کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 9 مرد، 14 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں داخل کر دیا گیا ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر صحت ایم اے سبرامنین نے بتایا کہ تروچی اور سیلم ضلعوں سے 24 اور 20 ڈاکٹروں کی اضافی ٹیمیں جائے وقوعہ پر بھیج دی گئیں تاکہ امداد اور علاج کو یقینی بنایا جائے۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔تاہم، ‘ٹائمز آف انڈیا’ اور ‘این ڈی ٹی وی’ کی ابتدائی رپورٹس میں ہلاکتیں 10 سے 20 تک بتائی گئیں، جبکہ ‘دی سن’ نے 31 ہلاکوں کا ذکر کیا ہے۔
واقعے کی ابتدائی تفصیلات بتاتی ہیں کہ جلسے کی جگہ پر بے ترتیبی اور سیکورٹی کے ناکافی انتظامات نے بھگدڑ کو ہوا دی، جس میں ایک 9 سالہ بچہ بھی لاپتہ بتایا جارہا ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے سٹالن نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ زخمیوں کے علاج کے اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔
جوزف وجے نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، میں متاثرین کے ساتھ ہوں اور تحقیقات کی مکمل حمایت کروں گا۔
یہ واقعہ بھارت میں عوامی اجتماعات کے دوران حفاظتی اقدامات کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یاد ہو کہ رواں سال کے اوائل میں شمالی بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے مقدس شہر ہری دوار میں مانسا دیوی مندر کی سیڑھیوں پر بھگدڑ سے کم از کم 6 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے، جو گنگا کے کنارے ہونے والا ایک مذہبی اجتماع تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے گنجان ممالک میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے جدید نگرانی اور ہنگامی پروٹوکولز کی ضرورت ہے، تمل ناڈو حکومت نے جلسوں اور عوامی تقریبات پر عارضی پابندی کا اعلان کر دیا ہے جب تک کہ تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں۔
