غزہ جنگ کے اثرات: اسرائیلی فوجیوں میں نفسیاتی مسائل اور خودکشیوں میں اضافہ
تل ابیب / غزہ: غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیلی فوجیوں میں نفسیاتی مسائل میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جبکہ خودکشی کے واقعات میں بھی اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد فوجی شدید ذہنی دباؤ، صدمے اور جنگی حالات کے اثرات کا شکار ہیں۔ ایک حالیہ واقعے میں ایک اسرائیلی فوجی نے عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی، جس نے فوج کے اندر بڑھتے ہوئے نفسیاتی بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج میں خودکشیوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ صرف 2025 کے دوران 22 فوجیوں کی خودکشی کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ مزید برآں، ان میں سے تقریباً 78 فیصد فوجی وہ تھے جو براہِ راست اگلے محاذ پر تعینات رہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل جنگی دباؤ، ہلاکتوں کا مشاہدہ، اور طویل عرصے تک خطرناک ماحول میں خدمات انجام دینا فوجیوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
یہ صورتحال کیوں پیدا ہو رہی ہے؟
ماہرین نفسیات اور عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑھتے ہوئے بحران کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
مسلسل جنگی دباؤ: غزہ میں طویل عرصے سے جاری آپریشنز نے فوجیوں کو شدید ذہنی تھکن اور دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
صدماتی تجربات (Trauma): ہلاکتوں، تباہی اور شدید لڑائی کے مناظر دیکھنے سے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
طویل تعیناتی: اگلے محاذ پر طویل عرصے تک تعیناتی سے ذہنی اور جذباتی توازن متاثر ہوتا ہے۔
جنگی جرائم کے الزامات: عالمی سطح پر لگنے والے الزامات اور تنقید بھی فوجیوں پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔
سپورٹ سسٹم کی کمی: ماہرین کے مطابق مناسب ذہنی معاونت اور بحالی کے نظام کی کمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف فوج بلکہ معاشرے پر بھی مرتب ہوں گے۔
