ٹرمپ کا ایران کا افزودہ یورینیئم قبضے میں لینے کا عندیہ، ماہرین نے منصوبہ انتہائی خطرناک قرار دیدیا

0

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے محفوظ شدہ افزودہ یورینیئم کو قبضے میں لینے کے امکان کا اظہار کیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین نے اس نوعیت کے کسی بھی فوجی اقدام کو انتہائی خطرناک قرار دے دیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے 400 کلوگرام سے زائد 60 فیصد افزودہ یورینیئم پر کنٹرول حاصل کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جو گہرائی میں زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ یورینیئم حاصل کرنا آسان نہیں، تاہم اس حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیق کاروں کے مطابق جنگ کے آغاز پر ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم 60 فیصد تک افزودہ موجود تھا، جسے باآسانی 90 فیصد تک بڑھا کر ہتھیاروں کے معیار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس تقریباً 1000 کلوگرام یورینیئم 20 فیصد اور 8500 کلوگرام 3.6 فیصد تک افزودہ بھی موجود ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم اصفہان میں زیرِ زمین تنصیبات میں محفوظ ہے، جو ماضی میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بھی بن چکی ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو مزید مضبوط بنا لیا ہے اور سرنگوں کے داخلی راستے مٹی سے بند کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث کسی بھی امریکی فوجی کارروائی نہ صرف انتہائی مشکل بلکہ ممکنہ طور پر ناممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کا آپریشن ایرانی جوابی حملوں کے خطرے کے باعث خطے میں بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.