اسلام آباد: ایوانِ صدر میں آصف علی زرداری کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس میں ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ صوبوں کی مخالفت کے باعث ملک گیر اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم، قومی سلامتی کے مشیر اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مہنگائی کے دباؤ سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت کی گئی، جبکہ تیل و گیس کی سپلائی پر دباؤ کے باوجود ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
اجلاس میں کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی ہدایت دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کو ملک گیر اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز زیر غور آئی تھی تاکہ تیل کی کھپت کم کی جا سکے، تاہم صوبوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے پیداواری سرگرمیاں اور برآمدات متاثر ہوں گی، جس کے بعد یہ تجویز مسترد کر دی گئی۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں تیل کی کھپت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس پر وزارت اطلاعات کو عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی گئی تاکہ شہری توانائی کے محتاط استعمال کی جانب راغب ہوں۔
صدر مملکت نے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور شیئرڈ موبیلٹی کے استعمال کی ترغیب دینے پر زور دیا، جبکہ خطے کی موجودہ صورتحال کے پاکستان کی معیشت اور فوڈ سکیورٹی پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کی جانب سے مہنگائی پر قابو پانے اور اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، جس سے مربوط قومی حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی اور ملک میں فی الحال وافر ذخائر موجود ہیں۔
بعد ازاں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان علیحدہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک تھے۔ ملاقات میں قومی سلامتی اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
