آپریشن "غضبُ للحق” جاری رہے گا، افغان طالبان کو واضح فیصلہ کرنا ہوگا: سینئر سکیورٹی عہدیدار

0

اسلام آباد:ایک سینئر پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن "غضبُ للحق” کے تحت افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے عملی اقدامات پر منحصر ہوگا۔

عہدیدار کے مطابق افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جاری آپریشن اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی سہولت کاری ترک کرنے کے حوالے سے پاکستان کو قابلِ تصدیق یقین دہانی فراہم نہیں کرتی۔

سکیورٹی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکومت بطور پراکسی ماسٹر خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے والے متعدد دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان قیادت کے اقدامات کے پیچھے مالی اور ذاتی مفادات کارفرما ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستانی شہریوں، مساجد اور معصوم بچوں پر مسلط کی گئی دہشت گردی کے تناظر میں دفاعِ خود کے زمرے میں آتے ہیں۔ پاکستان اندھا دھند کارروائیاں نہیں کر رہا بلکہ صرف مخصوص انفراسٹرکچر اور تنصیبات کو ہدف بنایا جا رہا ہے جو دہشت گردی میں استعمال ہو رہی ہیں۔

عہدیدار کے مطابق اب تک 180 سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا جا چکا ہے اور 30 سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کیا گیا ہے، جو دہشت گردوں کے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن کے خاتمے میں کوئی جلد بازی نہیں کی جائے گی اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

میڈیا بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ افغان طالبان حکومت اور ان کے مبینہ بھارتی سرپرست سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے من گھڑت پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، اس لیے تمام دعوؤں کی تصدیق ضروری ہے۔

سکیورٹی عہدیدار نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے پاکستان کا کوئی تعلق ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے اقدامات کو بعض مظلوم افغان برادریوں اور اقلیتوں کی جانب سے مثبت ردِعمل ملا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اندرونی سکیورٹی میں پاک فوج کی شمولیت گورننس کے خلا کے باعث ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونا اور متعلقہ اداروں کے سیاست زدہ ہونے سے صورتحال پیچیدہ ہوئی، جس کے باعث فوج کو کردار ادا کرنا پڑا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں سے بہتر حکمرانی اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد کی اپیل کی اور واضح کیا کہ پاک فوج کا سیاست یا دیگر امور سے کوئی مفاد وابستہ نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.