واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیئر سینیٹ بل (Graham-Blumenthal Sanctions Bill) کو منظوری دے دی ہے، جس کے تحت صدر کو اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ روسی تیل یا یورینیم خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرِف عائد کر سکے۔
بل کے مطابق، یہ اقدام روس کے خلاف اقتصادی دباؤ بڑھانے اور عالمی سطح پر اس کی توانائی کی تجارت کو محدود کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی ملک روس سے تیل یا یورینیم خریدتا ہے، تو امریکی انتظامیہ اسے بھاری ٹیرِف یا دیگر اقتصادی پابندیوں کا سامنا کروا سکتی ہے۔
سینیئر سینیٹ بل Graham-Blumenthal Sanctions Bill امریکی کانگریس میں متفقہ ووٹنگ کے بعد منظور ہوا، اور صدر ٹرمپ نے اسے فوری طور پر قانونی شکل دے دی۔ قانون کے مطابق صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ امریکی قومی مفاد اور عالمی سکیورٹی کے تناظر میں پابندیوں کی شرح اور نوعیت کا تعین کرے۔
کس پر اثر پڑ سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے روسی توانائی کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے، اور وہ ممالک جو روسی توانائی پر انحصار کرتے ہیں، انہیں شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس بل سے سب سے زیادہ اثر روسی تیل یا یورینیم خریدنے والے یورپی اور ایشیائی ممالک پر پڑ سکتا ہے۔ ان میں شامل ہیں:
جرمنی، فرانس، اٹلی، اسپین : یورپ کے وہ ممالک جو روسی تیل اور گیس پر انحصار کرتے ہیں۔
ہنگری اور پولینڈ :روسی توانائی کے بڑے خریدار۔
چین اور بھارت :روس سے توانائی کی اہم درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک
ترکی : روسی توانائی پر منحصر اور یورپ کے لیے توانائی کا راستہ فراہم کرنے والا ملک
یہ ممالک اگر روس سے توانائی خریدیں گے تو انہیں امریکی ٹیرِف یا اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ اور توانائی کی قیمتوں پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے بل کی منظوری کے بعد کہا کہ یہ اقدام روس کی جارحیت کو محدود کرنے اور عالمی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے، اور امریکہ اس معاملے میں اپنی حکمت عملی کے تحت ہر ممکن اقتصادی دباؤ ڈالے گا۔
