لندن : تحریکِ انصاف کے رہنما شہزاد اکبر پر حملہ،جبڑے کی ہڈی ٹوٹ گئی ، تحقیقات کا آغاز
لندن: تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما اور سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر پر لندن میں حملہ کیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ ایک عوامی مقام کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم افراد نے انہیں نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے فوراً بعد شہزاد اکبر کو طبی معائنے کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ تاہم واقعے کی نوعیت، حملہ آوروں کی تعداد اور حملے کے محرکات کے حوالے سے تاحال سرکاری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
لندن پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفتیش شروع کر دی ہے اور جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تمام ممکنہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر کو ماضی میں بھی مختلف نوعیت کے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا رہا ہے، لہٰذا اس واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
سیاسی حلقوں میں اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ انسانی حقوق کے نمائندوں نے بھی بیرونِ ملک مقیم سیاسی شخصیات کی سکیورٹی سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
