مقبوضہ کشمیر میں “انڈین ہیون پریمیئر لیگ” کے نام پر انٹرنیشنل کھلاڑیوں سے فراڈ، منتظمین رقم لیے بغیر غائب

0

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں کرکٹ کے نام پر انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ "انڈین ہیون پریمیئر لیگ” (IHPL) کے نام سے ایک غیر رجسٹرڈ ٹورنامنٹ منعقد کیا گیا جس میں معروف غیر ملکی کرکٹرز کو مدعو کیا گیا، تاہم منتظمین ادائیگی کیے بغیر اچانک غائب ہوگئے۔

رپورٹس کے مطابق یہ ٹورنامنٹ 25 اکتوبر سے 8 نومبر تک سری نگر  کے بخشی سٹیڈیم میں کھیلا جانا تھا۔ آغاز میں چند میچز ضرور ہوئے، مگر جیسے ہی کھلاڑیوں، امپائرز اور ہوٹل مالکان کو رقم کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی، حالات بگڑ گئے۔ انتظامیہ کی غفلت اور مالی بے ضابطگیوں کے بعد ٹورنامنٹ اچانک ملتوی کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق لیگ کے منتظمین کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے کی ادائیگی کے وعدے کر رہے تھے، لیکن ادائیگی سے قبل ہی راتوں رات غائب ہوگئے۔ ویسٹ انڈیز کے معروف بلے باز کرس گیل نے رقم نہ ملنے اور غیر پیشہ ورانہ رویے کے باعث ٹورنامنٹ ادھورا چھوڑ دیا۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے شان مارش اور بنگلہ دیش کے شکیب الحسن نے مدعو کیے جانے کے باوجود ٹورنامنٹ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پہلے ہی اس ٹورنامنٹ کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا تھا۔

پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور بخشی سٹیڈیم میں ہونے والے میچز کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مکمل رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے جعلی کمپنی کے نام سے بین الاقوامی ایجنٹس کے ذریعے کھلاڑیوں سے رابطہ کیا تھا۔

جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن اور جے کے اسپورٹس کونسل نے اس معاملے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "انڈین ہیون پریمیئر لیگ کسی تسلیم شدہ ادارے کے تحت رجسٹرڈ نہیں تھی، اس کے منتظمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔”

کھلاڑیوں کا ردِعمل:

ویسٹ انڈیز کے اسٹار بلے باز کرس گیل نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا”میں نے اپنے کریئر میں کئی لیگز کے ساتھ کھیلا ہوں  لیکن اس طرح کا غیر پیشہ ورانہ اور دھوکہ دہی پر مبنی تجربہ پہلی بار ہوا۔ منتظمین نے وعدے تو بہت کیے مگر کوئی ادائیگی نہیں کی۔”

بنگلہ دیش کے آل راؤنڈر شکیب الحسن نے کہا "مجھے شروع سے ہی اس لیگ کے حوالے سے شکوک تھے، اسی لیے میں نے شرکت نہیں کی۔ کرکٹ کے نام پر اس طرح کے فراڈ سے کھیل کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔”

آسٹریلوی کرکٹر شان مارشنے بھی اپنے بیان میں کہا”ہمیں بطور کھلاڑیوں کے ایسے ایونٹس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسے نام نہاد ٹورنامنٹس بین الاقوامی کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہیں۔”

تجزیہ:

ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر سرکاری یا غیر تسلیم شدہ کھیلوں کے ٹورنامنٹس کا بڑھتا ہوا رجحان خطرناک ہے۔ کرکٹ کے نام پر اس طرح کے فراڈ نہ صرف بین الاقوامی کھلاڑیوں کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں بلکہ کھیل کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی حکام کی عدم نگرانی اور کھیلوں کے سرکاری اداروں کی خاموشی نے ایسے فراڈی نیٹ ورک کو پنپنے کا موقع دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.