صدر آصف علی زرداری کا دوحہ میں عالمی سمٹ سے خطاب ،سماجی انصاف، پائیدار ترقی اور عالمی یکجہتی پر زور

0

دوحہ: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دوسری ورلڈ سمٹ برائے سماجی ترقی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سماجی انصاف، جامع ترقی اور عالمی یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ غربت کے خاتمے، باوقار روزگار کے فروغ، مساوات اور انسانی حقوق کی فراہمی کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔

صدر زرداری نے اپنے خطاب میں دوحہ پولیٹیکل ڈیکلریشن کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا وژن شمولیتی اور پائیدار ترقی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان پالیسی سازی میں ہمیشہ عوام کو مرکز میں رکھتا ہے۔”

صدرِ مملکت نے پاکستان کی سماجی فلاحی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو ایک مثالی منصوبہ قرار دیا، جس نے 90 لاکھ سے زائد خاندانوںکو مالی امداد، صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ “یہ منصوبہ عالمی سطح پر بہترین سماجی تحفظ کے ماڈلز میں شمار ہوتا ہے۔”

صدر زرداری نے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور اعلان کیا کہ آئندہ پانچ سال میں شرحِ خواندگی 90 فیصد تک بڑھائی جائے گی اور ہر بچہ اسکول جائے گا۔انہوں نے نوجوانوں کے لیے نیشنل یوتھ انٹرن شپ پروگرام اور گرین اینڈ ریزیلینٹ ہاؤسنگ پروجیکٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ماحولیاتی استحکام اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ صدر نے مینگرووز کی بحالی کو فطرت پر مبنی حل کے طور پر نمایاں کیا۔

صدرِ مملکت نے اپنے خطاب میں آبی وسائل کے سیاسی استعمال (weaponization of water) اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ دوحہ ڈیکلریشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دنیا کو تین ستونوں ،وقار، مساوات اور یکجہتی  پر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نےعالمی مالیاتی اصلاحات، قرضوں میں نرمی، منصفانہ ٹیکسیشن اور سماجی تحفظ کے دائرے کے پھیلاؤ پر زور دیا۔

صدر زرداری نے فلسطین میں نسل کشی، بھوک اور اپارتھائیڈ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے بغیر عالمی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کشمیری عوام کی جدوجہدِ حقِ خودارادیت کی بھی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ “فلسطین اور کشمیر، انصاف کی تلاش کی ایک ہی کہانی کے دو رخ ہیں۔”

صدر زرداری نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا: “ترقی کا آغاز اور اختتام انسانوں کی بہتری پر ہونا چاہیے۔ ہمیں تمام اختلافات سے بالاتر ہوکر ہمدردی اور ترقی کے راستے پر چلنا ہوگا۔”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.