امریکی جج نے ڈونلڈ ٹرمپ کے وفاقی انتخابات سے متعلق حکم نامے کا اہم حصہ کالعدم قرار دے دیا
واشنگٹن: امریکی وفاقی جج نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وفاقی انتخابات سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر کے اہم حصے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ حکم نامہ رواں برس مارچ میں جاری کیا گیا تھا، جس میں شہری ہونے کا ثبوت ووٹ ڈالنے کے لیے لازمی قرار دیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شہریوں سے ووٹ ڈالنے سے قبل شہریت کے ثبوت طلب نہیں کیے جا سکتے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی صدر کو وفاقی سطح پر ووٹروں کے لیے ایسی شرط عائد کرنے کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔
فیڈرل جج کے فیصلے میں کہا گیا کہ "امریکی آئین ووٹنگ کے حق کو شہری آزادیوں کی بنیادی ضمانت قرار دیتا ہے، اور اس پر ایسی انتظامی رکاوٹیں عائد نہیں کی جا سکتیں جو ووٹ کے حق کو محدود کریں۔”
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں برس مارچ میں جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر میں ووٹر رجسٹریشن کے لیے شہری ہونے کا ثبوت پیش کرنا لازمی قرار دیا تھا، جسے ناقدین نے "ووٹنگ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش” قرار دیا تھا۔فیصلے کے بعد امریکہ میں انتخابی قوانین اور ووٹنگ کے ضوابط پر نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔
ڈیموکریٹک رہنماؤں نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکی عوام کے ووٹ کے بنیادی حق کے تحفظ کی ضمانت ہے، جب کہ ریپبلکن رہنما اس فیصلے کو “غیر آئینی مداخلت” قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ آنے والے صدارتی انتخابات کے ماحول پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کو قانونی دباؤ میں ڈال دے گا۔
